بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

عمرہ میں طواف وداع ضروری نہیں ہے

جمہور علماء کی رائے ہے کہ عمرہ کی ادائیگی کرنے والوں پر اپنے شہر یا وطن واپسی کے وقت طواف وداع واجب نہیں ہے۔ ہندوستان وپاکستان کے بیشتر علماء (جو مختلف فیہ مسائل میں قرآن وسنت کی روشنی میں حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کی رائے کو راجح قرار دیتے ہیں) کی بھی یہی رائے ہے۔ سعودی عرب کے سابق مفتی شیخ عبدالعزیز بن بازؒ نے بھی معتمرین کے لئے طواف وداع کے واجب نہ ہونے کا فتویٰ دیا ہے جو انٹرنیٹ پر پڑھا جاسکتا ہے۔
عمرہ کی ادائیگی کی صورت میں طواف وداع کے واجب نہ ہونے کے عموماً مندرجہ ذیل دلائل پیش کئے جاتے ہیں:
کسی بھی ایک صحیح حدیث میں عمرہ کی ادائیگی کے بعد طواف وداع کے واجب ہونے کا تذکرہ موجود نہیں ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے متعدد عمرہ کئے، مگر کسی ایک عمرہ کی ادائیگی کے بعد بھی طواف وداع نہیں کیا۔
عمرہ میں طواف وداع کے وجوب کے متعلق کسی صحابی کا کوئی قول کتب احادیث میں موجود نہیں ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حجۃ الوداع کے سفر میں حج کی ادائیگی کے بعد عمرہ کی ادائیگی کی تھی مگر کسی بھی حدیث میں عمرہ کی ادائیگی کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا طواف وداع کرنا ثابت نہیں ہے۔
حجۃ الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان (لَا يَنْفِرُ اَحَدُکُمْ حَتَّی يکُونَ آخِرَ عَهدِہٖ بِالْبَيتِ کوئی شخص طواف کے بغیر مکہ مکرمہ سے روانہ نہ ہو) عمرہ کی ادائیگی میں طواف وداع کے واجب ہونے کے لئے دلیل نہیں بن سکتا ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ( کوئی بھی حاجی طواف وداع کے بغیر مکہ مکرمہ سے روانہ نہ ہو، ہاں حائضہ عورت بغیر طواف وداع کے اپنے گھر جاسکتی ہے) حجۃ الوداع کے موقع پر حجاج کرام سے تھا، جیساکہ جلیل القدر صحابی حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کی تشریح مروی ہے کہ اس میں خطاب حجاج کرام سے ہے۔ شیخ عبدالعزیز بن بازؒ نے اپنے مذکورہ فتویٰ میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا قول تحریر کیا ہے۔ نیز بعض احادیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کا مذکورہ فرمان ان الفاظ کے ساتھ وارد ہوا ہے ( مَنْ حَجَّ ہٰذَا الْبَيتَ فَلْيکُنْ آخِرَ عَهدہٖ الطَّوَاف بِالْبَيتِ یعنی جن حضرات نے بیت اللہ کا حج کیا ہے وہ اپنا آخری عمل طواف کو بنائیں) جس سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم حج ادا کرنے والوں کے لئے ہے۔
رہی صحیح مسلم کی حدیث (عمرہ میں وہ کرو جو حج میں کیا ہے) تو یہ حدیث عمرہ میں طواف وداع کے واجب ہونے کی دلیل نہیں بن سکتی کیونکہ اس حدیث میں عمرہ میں طواف وداع کے واجب ہونے کا کوئی تذکرہ نہیں ہے اور اگر اس حدیث کو عموم پر لیا جائے تو پھر عمرہ میں بھی منیٰ، مزدلفہ اور عرفات میں جانا ضروری ہوجائے گا جس کا کوئی قائل نہیں ہے۔ نیز طواف وداع کے واجب قرار دینے میں عمرہ کو حج پر قیاس کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ عمرہ کے اعمال گھنٹوں میں جبکہ حج کے اعمال دنوں میں مکمل ہوتے ہیں۔
بعض حضرات نے ترمذی میں وارد حدیث (مَنْ حَجَّ اَوِ اعْتَمَرَ فَلْيَکُنْ آخِرَ عهدِہٖ الطَّوَاف بِالْبَيتِ) کو عمرہ میں طواف وداع کے وجوب کی دلیل بنائی ہے حالانکہ یہ حدیث ضعیف ہے خود امام ترمذی ؒ نے اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد حدیث غریب کہا ہے ۔ شیخ ناصر الدین البانیؒ نے فرمایا کہ یہ حدیث اس لفظ کے ساتھ منکر ہے یعنی اَوِ اعْتَمَرَ کا لفظ اس حدیث میں صحیح نہیں ہے۔
وضاحت: اگر کوئی شخص عمرہ کی ادائیگی کے بعد جلدی ہی مکہ مکرمہ سے روانہ ہورہا ہے جیساکہ سعودی عرب کے باشندے وقیام پزیر حضرات عموماً محددد پروگرام کے تحت عمرہ کی ادائیگی کے لئے مکہ مکرمہ جاتے ہیں تو ان حضرات کے لئے امت مسلمہ طواف وداع کے واجب نہ ہونے پر متفق ہے۔ اختلاف صرف اس صورت میں ہے جب کوئی شخص عمرہ کی ادائیگی کے بعد مکہ مکرمہ میں مقیم رہے جیساکہ عموماً سعودی عرب کے باہر سے آنے والے معتمرین۔ ان حضرات کے لئے بھی مذکورہ بالا دلائل کی روشنی میں جمہور علماء کی رائے ہے کہ طواف وداع واجب اور ضروری نہیں ہے۔ غرضیکہ عمرہ میں طواف وداع نہیں ہے۔
محمد نجیب سنبھلی قاسمی (www.najeebqasmi.com)