بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

اسلام اور ضبط ولادت (Birth Control in Islam)

قرآن وحدیث کی روشنی میں مسئلہ ضبط ولادت (Birth Control) پر ایک تفصیلی مضمون انگریزی میں تحریر کرچکا ہوں ، مگر بعض شک وشبہات کو دور کرنے کے لئے چند سطریں مزید تحریر کررہاہوں۔ اللہ تعالیٰ قرآن وحدیث کی روشنی میں مسئلہ ضبط ولادت کو سمجھنے والا بنائے۔
اسلام کے ابتدائی دور سے لے کر آج تک تمام مفسرین، محدثین، فقہاء ، دانشور اور علماء اس بات پر متفق ہیں کہ اگر میاں بیوی دو یا تین سے زیادہ بچے رکھنے کی خواہش رکھتے ہیں تو ان کو ایک یا دو بچے رکھنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا ہے، کیونکہ حضور اکرم اکے فرمان کے مطابق اولاد کی کثرت مطلوب ہے،جیساکہ انگریزی کے مضمون میں مکمل حوالوں کے ساتھ احادیث تحریر کرچکا ہوں اور ان احادیث کے صحیح ہونے پر تقریباً تمام ہی مکاتب فکر کے علماء متفق ہیں، نیز نبی اکرم ا سے کسی ایک موقع پر بھی بچوں کو کم پیدا کرنے کی کوئی ترغیب دور دور تک کہیں نہیں ملتی حالانکہ نبی اکرم ااپنی امت کے لئے بہت زیادہ شفیق اور رحم کرنے والے تھے، بلکہ آپ انے اپنے عمل سے بھی امت مسلمہ کو زیادہ بچے کرنے کی ترغیب دی کہ آپ اکی چار لڑکیاں اور تین لڑکے پیدا ہوئے۔ آپ اکے سامنے صحابہ کرام کی ایک بڑی جماعت کے آپ اسے بھی زیادہ بچے پیدا ہوئے لیکن آپ انے کسی ایک صحابی کو ایک مرتبہ بھی یہ نہیں کہا کہ اب بس کرو، اور ان ہی کی تربیت کرلو، حالانکہ رسول اللہ اکی بعثت کا اصل وبنیادی مقصد لوگوں کی تربیت ہی تھا۔ معلوم ہوا کہ کثرت اولاد بچوں کی بہترین تربیت سے مانع نہیں ہے، اگر ہے تو حضور اکرم انے صحابہ کرام کو کثرت اولاد سے کیوں نہیں روکا؟ حضور اکرم اکی زندگی نہ صرف صحابہ کرام کے لئے موڈل ہے بلکہ قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لئے بہترین اسوہ (نمونہ) ہے۔
ایک مغالطہ کا ازالہ: اس زمانے میں ضبط ولادت پر زیادہ تر عمل شہروں میں اور مالداروں میں ہورہا ہے، جس سے ان کے بچے بظاہر خوشحال نظر آتے ہیں جس کو دیکھ کر مغربی تہذیب سے متاثر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ کم بچوں کے ہونے کا نتیجہ ہے، حالانکہ یہ ضبط ولادت کا نتیجہ نہیں بلکہ وہ تو پہلے سے ہی خوشحال تھے۔ اگر کم اولاد کی وجہ سے خوشحالی آئی ہوتی تو دیہات میں کسی غریب شخص کے ایک یا دو بچے ہونے کی صورت میں اس شخص کی زندگی کا معیار ان شہر والوں اور مالداروں کی طرح یا ان سے زیادہ بہتر ہوجاتا جن کے دو سے زیادہ بچے ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ معلوم ہوا کہ کم بچے خوشحالی کا یقینی ذریعہ نہیں ہے۔
اسلام میں بہترین تربیت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ لڑکا ڈاکٹر یا انجینئر بن جائے خواہ وہ اسلام کی بنیادی تعلیم سے واقف ہو یا نہ ہو۔ اسلامی تربیت کے لئے اسلام کے بنیادی احکام سے واقفیت اور اس پر عمل کرنا ضروری ہے خواہ وہ ڈاکٹر ہو یا انجینئر ، کسی یونیورسٹی کا پروفیسر ہو یا کسی دیہات میں قاعدہ بغدادی پڑھانے والا ، بڑا تاجر ہو یا سبزی فروش۔
ضبط ولادت (Birth Control) کے سلسلہ میں زمانۂ قدیم سے علماء، فقہاء اور مفکرین کی تین رائے چلی آرہی ہیں:
ضبط ولادت کی بالکل اجازت نہیں ہے۔ اس کی دلیل کے لئے سورہ انعام کی ۱۵۱ ویں آیت پیش کی جاتی ہے۔
ضبط ولادت کی گنجائش ہے، یعنی اگر کوئی شخص مانع حمل کے اسباب اختیار کرنا چاہے تو جائز ہے، کیونکہ حضور اکرم ا نے بعض صحابہ کرام کوعزل کرنے (ضبط ولادت کا ایک طریقہ) سے منع نہیں فرمایا۔ (بخاری)
ضبط ولادت مفلسی کے ڈر سے حرام ہے یعنی یہ سوچ کر کہ ہمارے بچوں کو کون کھلائے گا۔ ۔۔ لیکن دیگر صورتوں میں جائز ہے۔
نوٹ: Abortion کی اجازت نہیں ہے۔ ہاں اگر ماں کی جان کو خطرہ ہوجائے تب Abortionکرایا جاسکتا ہے۔
ضبط ولادت کی تحریک کی ابتداء ۱۷۹۸ میں یورپ کے مشہور ماہر معاشیات مالتھوس (Malthus) نے شروع کی تھی۔جس کے غلط نتائج سامنے آئے اور آرہے ہیں جس کا تفصیلی تجزیہ مولانا مودودی ؒ نے اپنی کتاب (اسلام اور ضبط ولادت ) میں کیا ہے۔ جس کا اعتراف خود مستشرقین نے کیا ہے اور کر رہے ہیں۔

مولانا مودودی ؒ نے اس ۱۵۹ صفحات پر مشتمل کتاب کے ذریعہ امت مسلمہ کو یہی دعوت دی ہے کہ ضبط ولادت (Birth Control) مغربی تہذیب کی دین ہے، اور ضبط ولادت کی موجودہ شکل اسلامی روح کے خلاف ہے۔
آج سے تقریباً ۲۵ سال پہلے تک ہمارے معاشرہ میں ضبط ولادت پر کوئی خاص عمل نہیں تھا۔ اب ہمارے معاشرہ میں خاص کر شہروں میں اس کا رواج شروع ہوگیا ہے، حتی کہ مغرب سے متاثر بعض لوگ رسول اکرم ا کی خواہش کے برخلاف زیادہ بچے پیدا کرنے کو غلط قرار دینے لگے ہیں، او ر اس کے لئے ایسے ایسے عقلی دلائل پیش کرتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ اب تک سارے انسان ایک بڑی غلطی کے مرتکب تھے۔
خلاصہ کلام: آپ کے لئے شرعاً اجازت ہے کہ آپ وقتی طور پر مانع حمل کے اسباب اختیار کرکے دو یا تین بچوں پر اس سلسلہ کو موقوف کرسکتے ہیں۔ مگر کوئی شخص زیادہ بچے رکھنا چاہے تو آپ اسے حقارت کی نگاہ سے نہیں بلکہ عزت کی نگاہوں سے دیکھیں۔
محمد نجیب قاسمی، ریاض (This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.)